اک فلسفہ

انسان کے خیال، اُسکی سوچ اُس کے بس میں نہیں ہوتے، سوچ کہاں سے آتی ہے اِس کا پتا ابھی تک سائنس کو بھی نہیں لگ سکا. انسانی دماغ صرف خیالات کو وصول کرتا ہے اور اِس کا کام صرف اِن خیالات پر ردّ عمل کرنا ہوتا ہے کہ کس خیال کو بُرا سمجھ کر رد کر دیا جائے اور کس کو تھام کر عمل میں لایا جائے.
شاید یہی وجہ ہے کہ گناہ کی سوچ آنے پر کوئی سزا نہیں ہے،  گناہ کرنے پر سزا ہے.

خیر جیسے ہر کمپیوٹر کے اندر ایک چِپ لگی ہوتی ہے جو بتاتی ہے کےاِس کمپیوٹر کی کیا خصوصیات ہیں اور پھر وہ اُنہیں خصوصیات کے مطابق ہی ہمارے اعداد و شمار پر ردّ عمل کرتا ہے، اُسی طرح انسان کے اندر بھی  اُسکے خالق کی جانب سے ایک چِپ لگا کر بھیجی جاتی ہے. اِسی چِپ کے مطابق اُس کے جذبات ہوتے ہیں، اُس میں کتنا سکونت ہو گا، کتنی رحم دلی ہو گی، کتنا غرور ہوگا، کتنا غصہ ہوگا، کتنی بزدلی ہو گی، کتنی بہادری ہوگی، سب اُسی چِپ میں بھر کے انسان کو دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے. لوگ اِس چپ کو فطرت کے نام سے جانتے ہوں گے.

ہاں معاشرے سے بھی انسان کچھ عادات سیکھتا ہے مگر میرے خیال میں یہ سب محض ٪20 ہوتا ہے اور ٪80 وہی انسان کے عادات و خصائل ہوتے ہیں جو اُس چِپ میں بھرے ہوتے ہیں. عادات کے ساتھ ساتھ کوئی بھی شخص خیالات پر ردّعمل بھی اُسی چپ کے ہی مطابق کرتا ہے. اک شخص کسی کو کھو دینے کا خیال آتے ہی رونے لگتا ہے تو کسی کو اِس سے فرق بھی نہیں پڑتا، کوئی شخص بُرائی کا خیال آتے ہی برائی کرنے نکل جاتا ہے تو کوئی ہزاروں دفعہ خیال آنے پر بھی غلط کام نہیں کرتا، سب اُسی چِپ میں بھری گئی خصوصیات کے مطابق ہوتا ہے.

چنا چہ کوئی بھی سوچ، خیال، کوئی بات ذہن میں آجانے پر کس طرح ردعمل کرنا ہے یہ ٪80 انسان کے اختیار میں ہے ہی نہیں، وہ اُسی طرح کرے گا جیسے پیچھے سے معلومات بھر کر بھیجی گئیں تھی. تو رہ گیا باقی کا 20 فی صد، مطلب انسان نے اپنے معاشرے سے جو سیکھا 20 فی صد اُسی کے مطابق ردعمل کرے گا.

لیکن رُکیے، کیا انسان جِس گھر میں، جِس شہر میں، جِس طرح کے محلے میں پیدا ہوتا ہے وہ اُسکے اختیار میں ہے؟ کیا اُس کے بہن بھائی، اُسکے رشتہ دار کس طرح کے ہوں گے اُسکے بَس میں ہے؟ کیا وہ کس سکول جاتا ہے اُسکے بَس میں ہے؟ ہاں دوست بنانا تو کچھ حد تک اختیار میں ہے لیکن دوستوں سے وہ  محض کوئی ٪5 سیکھتا ہو گا. چنانچہ ٪95 انسان کی ذات یا تو اُس چِپ کے مطابق ہوتی ہے یا گھر جِس میں پیدا ہوا یا بہن بھائی یا ماں باپ یا رشتہ دار یا سکول یا اساتذہ یا پھر یوں کہ اُس معاشرہ مطابق ہوتی ہے جہاں وہ جنم لیتا ہے.

تو یہ زندگی کیا ہے، کچھ معنوں میں صرف ٪5 ہمارے مطابق اور کچھ معنوں میں یہ ٪5 بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوست بھی تو اُسکے معاشرے کے ہی ہوتے ہیں، کبھی سُنا ہے کہ اِک لڑکا آ اِدھر فیصل آباد میں پیدا ہوا اور اُسکا پہلا دوست روس میں رہتا تھا؟ نہیں ایسے نہیں ہوتا.

تو کیا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہو گا کہ زندگی اک فلم کی مانند ہے جس کی کہانی لکھ دی گئی ہے اور وہ کہانی ہمارے ہاتھوں پر چھپی ہوئی ہے، ہم صرف اپنے اپنے کردار نبھا رہیں؟
تو پھر جزا اور سزا کس چیز پر ملے گی؟ اس ٪5 پر؟ وہ بھی جو اک طرح سے نہیں بنتا یا پورا 100 فی صد ہی ہمارے اختیار میں ہے؟ یا پھر ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اک کورے کاغذ کی طرح اس دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور خود سوچتے ہیں کہ میں سخی بنوں یا بخیل، میں رحم دل بنوں کہ نا بنوں، ساری ذات ہمارے خود پے انحصار کرتی ہے جس طرح  چاہیں بنا لیں خود کو.

یہ سارا سوال کا پسِ منظر تھا، اور سوال یہ ہے کہ جزا اور سزا، جنت اور دوزخ کن بنیادوں پر ملیں گی؟ مسلمان ہونے کے ناطے الحمد للہ میرا ایمان روزِ آخرت پے ہے، لیکن منطق سمجھنی ہے اس سب کی. سوال کیوں نہیں ہے، سوال کیسے ہے اور میں کہتا ہوں اگر مجھے مرنے سے پہلے بھی اس سوال کا جواب مل جاتا ہے جو واقعی مجھے مطمئن کرے تو میں سمجھوں گا بہت کچھ حاصل کر لیا اپنے ہونے سے. اگر آپ اس معاملے میں کچھ کر سکیں تو دل سے شکر گزار رہوں گا. شکریہ

سلمان احمد بھٹہ
٦ جولائی ٢٠٢٠

میں ہوں منٹو

چند ایک لوگ جن سے میں اس ناتواں سی زندگی میں متاثر ہوا ہوں، اُن میں سے کچھ رشتہ دار ہیں اور باقی سب سے میرا خون کا تو کوئی رشتہ نہیں مگر روحانی طور پر انہیں میں اپنے کافی قریب سمجھتا ہوں. انہی کچھ گنتی کے لوگوں میں سے ایک سعادت حسن منٹو صاحب ہیں، نہ تو میں اِن سے حقیقت میں ملا ہوں اور نہ ہی اِن کی بے شمار کُتب پڑھ رکھی ہیں مگر پھر بھی میں انہیں اپنا استاد محترم سمجھتا ہوں. روحانی استاد، جن سے میں نے اتنا کچھ سیکھا کہ بیان کرنے س قاصر ہوں مزید برآں اِن کے الفاظ، زندگی گزارنے کا طریقہ، سوچنے کا طریقہ میری شخصیت کے ہر پہلو میں آپ کو واضح نظر آئے گا.

سب سے اہم چیز جو میں نے اِن سے سیکھی وہ تھی بے خوف ہو کر جینا، بے باک زندگی بسر کرنا، زمانے کی پرواہ کئے بغیر جو خود کو سہی لگے وہی عمل کرنا اور اسی کے ساتھ دوسری چیز حق پر ڈٹ جانا ہے، انہوں نے تو اپنی پوری زندگی گزار دی لیکن حقیقت کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں بات نہیں کی، مگر میری ان سے شناسائی یہی کوئی 2 سال پہلے ہوئی تھی. تب سے لیکر آج تک میں نہ حق کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے ڈرا ہوں اور نہ کبھی خوف آیا دل میں.

یہ میں اپنی صفات بیان نہیں کر رہا، میں تو محض زندہ جاویدہ مثال سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں آپکے سامنے ہوں انکا ادنا سا شاگرد. اگر اس قدر ادنا شاگرد کی شخصیت اتنی بے باک ہو سکتی ہے تو اُن کی شخصیت کا کیا مقام ہوگا. اُن کے الفاظ کا اثر کس قدر دیر پا رہتا ہو گا اور اُن کی موجودگی کا اثر کس قدر جامد ہو گا.

وہ کہتے تھے نا، “اگر آپ میرے افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہےکہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے” اور بلکل سہی کہتے تھے زمانے کے شعراء نے، افسانہ نگاروں، مصنفین نے اک ایسا منظر پیش کر رکھا تھا کہ لوگوں کو حقیقت سے دور  کر دیا تھا، زمانے کی تلخ حقیقتوں پر حسین سا پردہ ڈال رکھا تھا اور لوگوں کو لگنے لگ گیا تھا کہ یہ حقیقت میں بھی سب سہانا اور دلکش ہے لیکن آپ نے زمانے کے تمام اُن پہلوؤں پر بات کرنے کی جرات دکھائی جن کے بارے میں سننے سے بھی لوگ ہچکچاتے تھے پھر چاہے وہ جنسی تعلق ہوں یا شہوانیت ہو یا ہیرہ منڈی ہو یا پھر ہم جنس پرستی. اُردو ادب میں اس طرح کے ہر ایک موضوع پر کھل کر اپنا قلم استعمال کرنے کی جسارت محض آپ ہی نے کی ہے.

تاہم آج ١١ مئی کو ان کے ١٠٨ ویں سالگرہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ان کے درجات بلند فرمائے اور اگر کوئی ان سے خطا سرزد ہو گئی ہو تو اسے بھی معاف کر دے( آمین). بس بات کو منٹو صاحب کے الفاظ سے ہی ختم کرنا چاہوں گا، وہ کہتے ہیں، “ہم اکٹھے پیدا ہوئے اور خیال ہے اکٹھے ہی مر جائیں گے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے”.

سلمان احمد بھٹہ
١١ مئی ٢٠٢٠

The real mati

This was the username that i set for his insta profile, and he accepted it as a gift. He is my friend, named as Mati- ur- Rehman.
When i asked about 250+ people to suggest me anything to write, just 10 of them replied. Although he asked me to write about himself but that’s enough. The thing is that he values my story enough to reply to it. I’m not going to exaggerate his personality neither i know him at thay deep level. It is all about writing the facts, none of you can deny any fact of universe.
Everyone has flaws, but we only see other’s and most importantly we see and highlight the flaws of those people who don’t know how to hide them/cover them. This boy is one of those people.
He doesn’t know how to make others realize that he isn’t perfect, he doesn’t know how to dodge others, how not to do the stuff that people don’t like, how to cover himself with a beautiful packing and how to be a double face human being.If he is smiling, it’s the real one, if he is sad he won’t try to look happy, if he’s in a good mood, everyone will realize and if he’s angry Abdul-Rehman will realize it before anyone else. All this makes me think I selected the write username for him!
He didn’t ask me to write all this, this is what his personality made me write. At the end, I will say again, he’s not a perfect human nor is anyone else. But, writing something good about anyone is far more better than writing the -ve aspects.

Salman Ahmad Bhutta
2-4-2020

CHUTYAP

Chutyap is a word we use when someone does some sort of wrong us and they get something in return. It could be anything like power, pride, money or respect, etc.

So basically all of us are doing “Chutyap”. But we only acknowledge it when someone else does it, more specifically does it with us. If that same person is doing it to anyone else we don’t even give a fuck.

So, be patient, it’s the Chutyap that u did is what is actually coming back to you.

-Salman
30-march-2020

Cruelty of life – زندگی کے ظلم

ذندگی کیا ہے؟ ظلم کیا ہے؟ ذندگی کے ظلم سے کیا مراد ہے؟ کیا واقعی ذندگی ظلم کرتی ہے؟ یا ذندگی میں ہمارے پہ ظلم کئے جاتے ہیں. یا پھر ہمیں لگتا ہے کے ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے. یہ کون ہے جس کی طرف ہم اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ ظلم کرتا ہے. کیا وہ خدا ہے؟ اگر خدا ظلم کرتا ہے تو کیا  ملحد لوگوں پر ظلم ہوتا ہی نہیں؟ اگر ان پہ بھی ہوتا ہے تو پھر ان پہ کون کرتا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں…..

پہلی بات تو ادھر لفظ ذندگی سے مراد دنیاوی ذندگی ہے. جو ہم بے حیثیت انسان گزار رہے ہیں. دوسری بات ذندگی ظلم نہیں کرتی یہ تو اک state کا نام ہے. جیسے اگر کسی مادہ کے ایٹمز اتنی سختی سے بند ہوں کے ہل بھی نہ سکتے ہوں تو ہم اس حالت کو ٹھوس (solid) کہتے ہیں.اسی طرح اگر ہم باتیں کر رہے ہیں اپنی مرضی سے چل پھر سکتے ہیں تو یہ حالت ذندگی کہلاتی ہے. چنانچہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ ظلم، انصاف یہ کچھ بھی کسی کے ساتھ کر سکے. یہ تو محض اک حالت ہے.

اگلی چیز کیا ذندگی میں ظلم ہوتا ہے؟ ویسے تو ظلم کے کئے معنی ہیں لیکن ادھر ظلم سے مراد زیادتی ہے، نا انصافی ہے. اب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، نا انصافیاں ہوتی ہیں چنانچہ یہ تو بات سہی ہے. تو جی ہم کہہ سکتے ہیں ہم انسانوں کی عقل کے مطابق ہمارے ساتھ ذندگی ظلم میں ظلم ہوتا ہے.

اگلی چیز ہم بے حیثیت مسلمان مانتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے. ملحد کے عقائد کو ابھی رہنے دیتے ہیں ہمادا ماننا ہے کہ ہمیں بنانے والا اللہ ہے. تو پھر جب کسی کی سوچ کے مطابق اس کے ساتھ ظلم ہوتا ہے وہ یہی کہتا ہے رب کی مرضی سے ہوا ہے.

لیکن ہمارا اللہ تو وہ ہے جو 70 ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے ہم سے. وہ ہمارے ساتھ ظلم، زیادتی، یا نا انصافی کیسے کر سکتا ہے؟

یہ دو باتیں مخلف آگئی. پہلے ہم مانتے ہیں کہ ہماری عقل کے مطابق ذندگی میں ظلم ہوتا ہے. اور رب کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا. پھر ہم کہتے ہیں کے وہی رب ظلم کرتا ہے جس نے اشرف المخلوقات بنایا اور 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے.

To g scnz kuch ese hain…..

بالکل ہر چیز اسی کی مرضی سے ہوتی ہے. مگر وہ ذات ظلم کبھی نہیں کرتی. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے مگر نہیں. سب کچھ اس process کا حصہ ہے، سب کچھ planned ہے، ہم اپنے نظریے سے دیکھتے ہیں.

کسی کا موڑ سائیکل چوری ہو گیا، کوئی ہمارا عزیز بیمار ہو گیا، کسی کے والد انتقال کر گئے، کوئی بے انتہا محنت کے بعد بھی اچھے نمبر نہ لے سکا، کسی کی بیوی فوت ہو گئی، کوئی معذور ہو گیا….. یہ سب اور بہت کچھ ایسا ہی ہونے پر ہمیں لگتا ہے ظلم ہو گیا اور زیادتی ہوگئی مگر یہ سب اُس کی مرضی سے ہوتا ہے ان سب میں آپ ہی کی بہتری ہوتی ہے. آپکو پتا نہیں ہوتا مگر وہ رب آپکی بھلائی کے لئے ہی کرتا ہے سب.
ہماری مختصر سوچ سے ہمیں لگ رہا ہوتا ہے ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے مگر اصل میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہوتا. اختتام میں بس اتنا کہوں گا

” اس ذندگی میں کوئی دکھ کوئی پریشانی یا تو اس وجہ سے آپکو ملتی ہے کہ آپکے گناہ جھڑ جائیں اور آخرت کی سزا  سے بچ جائیں، یا پھر بہت بڑا انعام ملنے والا ہوتا ہے جس کا ہدیہ دے رہے ہوتے ہو آپ”

سلمان احمد بھٹہ
30 مارچ 2020

کیا مخلوق کا خدا سے شکوہ جائز ہے؟

دو الگ الگ چیزیں ہیں. اک ہے “کیا مخلوق کا خالق سے شکوہ جائز ہے” یہ تو عالم دین بتا سکتے ہیں اسلام میں جائز ہے کہ نہیں. میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا. دوسری چیز ہے، “مخلوق کو خالق سے شکوہ کرنا کیسا ہے؟”
اس بارے میں کچھ نا کچھ لکھ سکتا ہوں. بات ایسی ہے کہ بے شمار چیزیں ہم ذندگی میں کرتے ہیں جو جائز نہیں بھی ہوتی. چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شکوہ کرنا کیسا ہے.
شکوہ کس چیز کا کریں؟ شکوہ کریں ہی کیوں؟ گلا شکوہ کسی سے تب کیا جاتا ہے. جب آپ اُس کی ساری مان رہے ہوں اور پھر بھی آپ کے ساتھ وہ بُرا کرے، پھر آپکو دکھ ہوتا ہے اور آپ گلا کرتے ہیں.
سوال یہ ہے کہ کیا مخلوق خالق کے سارے احکام مان رہی ہے؟ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل رہی ہے؟ یا کم از کم اپنی کوشش کر رہی ہے چلنے کی؟
پوری مخلوق میں سے کوئی بھی جاندار اگر خالق کے احکامات پر عمل کر رہا ہے تو اُسے خالق سے کوئی شکوہ ہوگا ہی نہیں اور اگر وہ نہیں عمل کر رہا اور شکوہ کر رہا ہے، تو پھر اس سے بڑا جاہل کوئی نہ ہو گا.

وہ خالق ہے اس نے ہمیں بنایا ہے. وہ جانتا ہے ہمارا جسم اور روح کس طرح پر سکون اور تندرست رہ سکتے ہیں. مگر جب ہم اس کی ہدایات کو چھوڑ دیتے ہیں پھر تنگ ہوتے ہو، پھر شکوہ کرتے ہیں، گلے کرتے ہیں.
پس اگر ہم مڑ گئے اُس کی جانب، اک شکوہ بھی باقی نہ رہے گا.

سلمان احمد بھٹہ
30 مارچ 2020

Love with ‘out of range’ person.

If you truly love someone that can’t be yours, you will be broken inside. There will be misery and pain.

That broken person will go on any of the two ways:
Either he will become something or achieve some goals or any worldly success.

Other is that he will turn towards the Almighty: his creator. As, it is said:

“عشق مجازی عشق حقیقی کی پہلی سیڑھی ہے”

So for me, there are two possibilities if you are denied the person you truly love, you will become a success in this world or you will turn to Almighty and be a success in the hereafter.

Salman Ahmad Bhutta
30 March 2020
391 g.b

سمجھوتہ /Compromise

تقریباً سات ارب لوگ زندہ ہیں، اربوں لوگ پیدا ہو کر انتقال بھی کر گئے اور مزید نا جانے کتنے اربوں لوگوں نےآنا اور چلے بھے جانا اس عالمِ نا پائیدار سے
اس تعداد میں ہونے کے باوجود بھی یہ سب اک دوسرے سے مختلف ہیں. سب کے سب منفرد ہیں ان میں سے کوئی ایک شخص بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ فلاں شخص سو فی صد میرے جیسا ہے
یہ بھی اُس ذات کے کمالات میں سے ایک کمال ہے، اگر سوچا جائے، وگرنہ ہم ہیں کہ

تو جب سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی ایک بھی مکمل طور پر دوسرے جیسا نہیں ہے تو کیسے دنیا چل رہی ہے، یہ اولاد کے ساتھ والدین، میاں کے ساتھ بیوی، بھائی کے ساتھ بہن اور باقی تمام رشتے کیسے قائم ہیں
چلو ان سب میں تو خونی یا کوئی قانونی رشتہ قائم ہے جس کی وجہ سے ساتھ رہنا پڑ جاتا ہے، کبھی سوچا کہ اتنے مختلف ہونے کے باوجود دوستیاں کیسے قائم ہیں؟ دو انجانے لوگ ملتے ہیں اور پھر نسلیں گزر جاتی ہیں مگر وہ دوستی قائم رہتی ہے…

تو جی “یہ سب سمجھوتے کی داستان ہے”

جیسے موٹر بائیک چلاتے ہوئے ہم مکمل ہوش و حواس میں نہ ہوتے ہوئے بھی ٹھیک چلا لیتے ہیں، اسی طرح ہم بغیر ہوش و حواس کہ یہ سمجھوتہ کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا
سمجھوتہ…. کس چیز پر…..

ہر انسان کسی ایک نیٹ ورک کے پیکیج کی طرح ہے، جس طرح ہم کوئی پیکیج لگاتے ہیں، اس میں اتنے منٹ ہوتے ہیں، اتنے میسج ہوتے ہیں، اتنا انٹرنیٹ ہوتا ویسے انسان بھی ہے

ہر انسان ایک منفرد پیکیج ہے، کسی میں حُسن زیادہ ملے گا، تو کسی میں صلہ رحمی، کوئی باحیا ہوگا تو کسی میں عدل ملے گا. اسکے ساتھ ساتھ کوئی کینہ رکھتا ہوگا یا کوئی جھوٹ زیادہ بولتا ہوگا، کسی میں غصہ زیادہ ہوگا تو کوئی بدتمیز ہوگا

ہمیں بس یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے سامنے جو پیکیج ہے اس میں ہم کسی چیز پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور کس پے نہیں. اگر ایسی چیزیں جن پر سمجھوتہ نہ ہو سکے زیادہ ہوں تو وہ آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن اگر معاملہ اسکے برعکس ہو تو پھر دنیا اس رشتے کو یاد رکھتی ہے

اگر آپکو کسی شخص میں اسکی اچھائیوں سے زیادہ برائیاں دِکھ رہی ہیں، تو محض اس سے دور ہو جاو، نفرت پیدا کر کے کوئی فائدہ نہیں اور اگر معاملہ اسکے متضاد ہے تو آپ خود کافی سمجھدار ہیں

سلمان احمد بھٹہ
٨ اکتوبر ٢٠١٩

محنتی طالب علم/ snake

سکول جاتے تھے، پہلی پوزیشن لینے والے کو سب سے پڑھنے والا سمجھا جاتا تھا. چاہے اُسکی تعلیمی قابلیت پے رشک نہ بھی کیا جائے پھر بھی اک عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے. قابل، محنتی، پڑھنے والا، پڑھاکو یا پھر ٹاپر کہ کر بُلایا جاتا تھا، جس پر وہ بچہ بھی فخر محسوس کرتا تھا.

لیکن یونیورسٹی آئے ہیں تو ماحول ہی مختلف ہے، یہاں پر اگر کوئی طالب علم پڑھنے کا حق ادا کرتا ہے اور باقی سب سے زیادہ/ بہتر نمبر لیتا ہے تو اُسے “تھیٹہ” جیسے لقب سے نواز دیا جاتا ہے، اور اگر پھر بھی دل کو سکون نہ ملے تو “سنیک” یا “آستین کا سانپ” کہ کر بلانے لگتے ہیں.

ایک لڑکا / لڑکی جو اپنے والدین کا پیسہ، اپنا وقت اور قابلیت کا بالکل صحیح استعمال کر رہا ہے اُس کی تعریف کرنے کی بجائے ہم اُسے ایسے ناموں سے پکارنے میں مصروف ہیں جیسے اُس سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہو. ہاں کچھ طالبعلم ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف کر کے خود پڑھ لیتے ہیں، تو بھائی وہ کم از کم اپنے ساتھ تو مخلص ہیں، یہ تو آپکی کم عقلی ہوئی نہ جو انکی باتوں میں آگئے.

پھر روزانہ کی یونیورسٹی لائف میں یہ بہت سُننے کو ملتا ہے کی میں نے صرف پیپر سے دو دن پہلے تیاری شروع کی یا میں نے بس دو گھنٹے میں پیپر تیار کر لیا اور فلاں لڑکا/لڑکی سارا سمسٹر پڑھ کے بھی مجھ سے کم نمبر لے پایا/پائ.

تو بات کچھ یوں ہے کہ اگر آپ میں سے بھی کوئی یہ الفاظ کہتا ہی تو سب سے پہلے خُدا کا شُکر ادا کرے جس نے اتنی ذہانت عطا کی، اور پھر ایسے الفاظ کہ کر لوگوں کو ذہنی اذیت دینا بند کریں. کیونکہ تمام انسانوں کی قابلیت اک سی نہیں ہوتی… کسی کی کم تو کسی کی ذیادہ ہے، ہاں اگر کوئی قابل نہیں ہے پھر بھی اپنی طرف سے پوری محنت کے باوجود بھی اچھے نمبر نہیں لے پاتا تو یاد رکھیے گا اُسکی وہ محنت کسی ایسی جگہ کام آئے گی جہاں کا وہ خود بھی نہیں سوچ سکتا.

بس اتنا ہی. 🙂

سلمان احمد بھٹہ
١٠ ستمبر ٢٠١٩

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑